اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد سری لنکا میں بڑے پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ متعدد سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں نے انوجن کی معافی کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔

اشتہار