حوثیوں اور سعودی عرب کی جنگ: دونوں کا آپس میں تنازع کیا ہے؟
اِس ہفتے کے سربین میں ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کا آپس میں مسئلہ کیا ہے۔ اِس جنگ کی اصل وجوہات کیا ہیں
International news in seven languages
موضوع
اِس ہفتے کے سربین میں ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کا آپس میں مسئلہ کیا ہے۔ اِس جنگ کی اصل وجوہات کیا ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ فاکس نیوز کے پروگرام سنڈے مارننگ میں ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا میں ایران کے ساتھ معاہدہ کروں یا اس سے کھیلوں۔ اس وقت میرے ذہن میں یہی سوال ہے۔‘
دونوں بھائیوں کے والد خالد محمود کہتے ہیں کہ ’میری تو دنیا ہی برباد ہوگئی ہے۔۔۔ میرے سوا کسی کا نقصان نہیں ہوا، میرے دو بیٹے میری نظروں سے چلے گئے۔ ایک قتل ہوگیا اور دوسرا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔‘
سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو پھانسی دیے جانے کے ایک ہفتے بعد بھی کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ دونوں نے مکہ کی ایک مسجد میں فحش حرکت کا ارتکاب کیا تھا، تاہم الزام کی تفصیلات، عدالتی کارروائی اور شواہد عوامی طور پر جاری نہیں کیے گئے۔
سعودی عرب میں گذشتہ بدھ 14 اکتوبر کو ایک بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دی گئی تھی۔
سعودی عرب میں مبینہ ’فحش حرکات‘ کے الزام میں سزائے موت پانے والی بنگلہ دیشی خاتون کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا اُن کی بیٹی نے کوئی ایسا جرم کیا تھا جس پر سزائے موت دی جا سکتی ہو اور یہ کہ سعودی عرب میں اُن کی بیٹی کی ایک دوست نے خاندان کو فون کر کے یہ اطلاع دی تھی کہ سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔
روسی مبصرین، خواہ کریملن نواز ہوں یا مخالف، اس تنازع سے روس کو حاصل ہونے والے فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور یوکرین جنگ سے امریکہ کی توجہ ہٹانا شامل ہے۔
بی بی سی کی فیکٹ چیکنگ ٹیم نے تنازعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’ایکلڈ‘ (ACLED) کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کشیدگی میں اضافے کے بعد ریکارڈ کی جانے والی کارروائیوں میں کن ہتھیاروں کا زیادہ استعمال ہوا۔
سعودی عرب کے شہر ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری کی تدفین اُن کے آبائی علاقے باجوڑ میں کر دی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ رضوان اللہ آٹھ ماہ قبل محنت مزدوری کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے 7 اور 11 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں17 افراد ہلاک اور 333 لوگ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی کا کہنا ہے کہ ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ ’انصار اللہ‘ کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ایسے میں ریاض کے دفاعی شراکت دار پاکستان کی اِس تنازع میں شمولیت سے متعلق متعدد سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ بی بی سی نے دفاعی اور سفارتی امور کے ماہرین سے بات چیت کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستان باضابطہ طور پر حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بن سکتا ہے اور کیا اس تنازع میں ممکنہ شمولیت سے پاکستان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں؟
اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی جانب لے جائے گا؟ اور کیا نام نہاد ’مکہ اتحاد‘ وہ سکیورٹی ضمانتیں فراہم کر سکتا ہے جن کے لیے ریاض طویل عرصے سے واشنگٹن پر انحصار کرتا آیا ہے؟
حوثی سعودی ہوائی اڈوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ فوجی اڈوں، تیل کی تنصیبات یا دیگر اہم انفراسٹرکچر کے مقابلے میں ہوائی اڈے ان کے لیے اتنا اہم اور مؤثر ہدف کیوں ہیں؟
سری لنکا کے نائب وزیرِ خارجہ ارون ہیماچندرا کے مطابق سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے ایک سری لنکن شہری کو فیس بک پر کیے گئے ایک تبصرے کے باعث سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی ہے۔
اس دورے کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ سعودی وزیرِ دفاع کی دعوت پر ہو رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکیورٹی اور عسکری امور، خصوصاً یمن کی صورتِ حال، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری سلامتی، مذاکرات کے ایجنڈے میں نمایاں رہیں گے۔
صومالیہ کے شمال مشرق میں نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پانچ ماہ سے زائد عرصہ قبل اغوا کیے گئے آئل ٹینکر کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے، تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود 100 برس قبل آٹھ جنوری 1926 کو ایک خصوصی تقریب میں مملکتِ حجاز کے بادشاہ بنے تھے اور اس کے چھ سال بعد 23 ستمبر 1932 کو مملکت سعودی عرب کا قیام عمل میں لایا گیا۔
سعودی عرب نے مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کی گئی اپنی پہلی الیکٹرک گاڑی ایکسوبوٹ متعارف کرا دی ہے، جو سیئر موٹرز کی جانب سے سیڈان اور ایس یو وی ماڈلز میں پیش کی گئی ہے۔ یہ گاڑیاں ایک مرتبہ چارج کرنے پر 560 سے 670 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں، جبکہ بیٹری صرف 30 منٹ میں 10 سے 80 فیصد تک چارج ہو جاتی ہے۔
نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز ملاقات تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کمرے میں کون سے ایرانی رہنما موجود تھے۔' تاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا پاکستان محض سیاسی حمایت تک محدود رہے گا یا معاہدے کے تحت کوئی عملی کردار بھی ادا کرے گا؟ اور اگر صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان کا ممکنہ کردار کیا ہو سکتا ہے۔