اس دورے کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ سعودی وزیرِ دفاع کی دعوت پر ہو رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکیورٹی اور عسکری امور، خصوصاً یمن کی صورتِ حال، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری سلامتی، مذاکرات کے ایجنڈے میں نمایاں رہیں گے۔

اشتہار