10 اکتوبر کی شب تک یہ واضح ہو چلا تھا کہ وفاقی حکومت بالآخر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے۔ مگر مولانا فضل الرحمان اُس وقت بھی پُرامید تھے کہ اُن کی ثالثی میں وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اشتہار