خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں تہران اجلاس، کشمیر کمیٹی، معدنیات اور گورنر راج سمیت مختلف سیاسی و آئینی معاملات پر ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اشتہار