تہران کا کہنا ہے کہ چار ملکوں سے جہاز آزادانہ طور پر عبور کر سکتے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان معاملات کو سیاسی خطرات لاحق ہیں۔

اشتہار