عباس عراقچی نے ایک اجلاس میں جس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی موجود تھے، صحافیوں سے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے مطابق اگر ایران کی شرائط پوری کی جائیں تو سات دن کے اختتام پر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور اس کے بعد حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

اشتہار