’ماناودر‘ ریاست کے پاکستان سے الحاق کا تنازع اور اس کے آخری حکمراں کے پاکستان میں گزرے دنوں کی داستان
فاطمہ خیر نے بی بی سی اُردو سے کینیڈا سے بذریعہ فون بات کی۔ وہ ریاست ’ماناودر‘ کے آخری حکمران نواب غلام معین الدین خان جی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں، جن کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے اعلان کو نہ مانتے ہوئے 22 اکتوبر 1947 کی غبار آلود صبح، دھول اڑاتے انڈین فوجی قافلے اس ریاست میں داخل ہو گئے اور دوپہر تک یہ چھوٹی سی شاہی ریاست انڈیا کے زیرِانتظام آ چکی تھی۔
RocksNews پر شائع
تازہ کاری
زبان
اردو
’ماناودر‘ ریاست کے پاکستان سے الحاق کا تنازع اور اس کے آخری حکمراں کے پاکستان میں گزرے دنوں کی داستان — تصویر بشکریہ: BBC News اردو
فاطمہ خیر نے بی بی سی اُردو سے کینیڈا سے بذریعہ فون بات کی۔ وہ ریاست ’ماناودر‘ کے آخری حکمران نواب غلام معین الدین خان جی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں، جن کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے اعلان کو نہ مانتے ہوئے 22 اکتوبر 1947 کی غبار آلود صبح، دھول اڑاتے انڈین فوجی قافلے اس ریاست میں داخل ہو گئے اور دوپہر تک یہ چھوٹی سی شاہی ریاست انڈیا کے زیرِانتظام آ چکی تھی۔