پاکستان میں قتل، ریپ یا بچوں کے جنسی جرائم سے متعلق مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کا ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونا‘ ایک معمول بنتا نظر آتا ہے۔ لائبہ اعجاز اور وسیم عباس کے کیسز نے ایک بار پھر اس رجحان پر سوالات اٹھائے ہیں، جسے انسانی حقوق کے کارکن مشکوک قرار دیتے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے قانونی کارروائی کا حصہ بتاتے ہیں۔

اشتہار