’ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا‘: تہران اجلاس سے کشمیر کمیٹی تک خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمٰن آمنے سامنے
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں تہران اجلاس، کشمیر کمیٹی، معدنیات اور گورنر راج سمیت مختلف سیاسی و آئینی معاملات پر ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
RocksNews پر شائع
تازہ کاری
زبان
اردو
’ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا‘: تہران اجلاس سے کشمیر کمیٹی تک خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمٰن آمنے سامنے — تصویر بشکریہ: BBC News اردو
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں تہران اجلاس، کشمیر کمیٹی، معدنیات اور گورنر راج سمیت مختلف سیاسی و آئینی معاملات پر ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔