حوثیوں اور سعودی عرب کی جنگ: دونوں کا آپس میں تنازع کیا ہے؟
اِس ہفتے کے سربین میں ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کا آپس میں مسئلہ کیا ہے۔ اِس جنگ کی اصل وجوہات کیا ہیں
International news in seven languages
موضوع
اِس ہفتے کے سربین میں ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کا آپس میں مسئلہ کیا ہے۔ اِس جنگ کی اصل وجوہات کیا ہیں
روسی مبصرین، خواہ کریملن نواز ہوں یا مخالف، اس تنازع سے روس کو حاصل ہونے والے فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور یوکرین جنگ سے امریکہ کی توجہ ہٹانا شامل ہے۔
ترکی کی وزارتِ قومی دفاع کی جانب سے حالیہ بیان میں سعودی عرب کی مدد کے طریقۂ کار سے متعلق قانونی اور عسکری روڈ میپ کے اشارے دیے گئے۔ جمہوریہ ترکی کے آئین کا آرٹیکل 92 اس بات کو ریکارڈ پر لاتا ہے کہ ترکی کی فوج کو بیرونِ ملک بھیجنے یا غیر ملکی افواج کو ترکی میں تعینات کرنے کا اختیار ترکی کی پارلیمان کے پاس ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے 7 اور 11 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں17 افراد ہلاک اور 333 لوگ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی کا کہنا ہے کہ ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ ’انصار اللہ‘ کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ایسے میں ریاض کے دفاعی شراکت دار پاکستان کی اِس تنازع میں شمولیت سے متعلق متعدد سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ بی بی سی نے دفاعی اور سفارتی امور کے ماہرین سے بات چیت کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستان باضابطہ طور پر حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بن سکتا ہے اور کیا اس تنازع میں ممکنہ شمولیت سے پاکستان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں؟
صومالیہ کے شمال مشرق میں نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پانچ ماہ سے زائد عرصہ قبل اغوا کیے گئے آئل ٹینکر کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے، تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز ملاقات تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کمرے میں کون سے ایرانی رہنما موجود تھے۔' تاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
پاکستان کے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ تمام ذرائع سے تیل کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور حکومت کوئی بھی ایسا فیصلہ نہیں لے گی جس سے تیل کی دستیابی میں کوئی خلل آئے۔
حوثیوں کی برق رفتار پیش قدمی کے پیچھے کیا عوامل چھپے ہیں اور سعودی عرب کو کس مشکل فیصلے کا سامنا ہے؟
سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا پاکستان محض سیاسی حمایت تک محدود رہے گا یا معاہدے کے تحت کوئی عملی کردار بھی ادا کرے گا؟ اور اگر صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان کا ممکنہ کردار کیا ہو سکتا ہے۔
قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے بعض ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبوں کے لیے درکار ضروری سامان قطر تک نہیں پہنچ پا رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو چکے ہیں۔ اُدھر فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے حوالے سے مستقبل قریب میں پیش آنے والے انتہائی اہم معاملات پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘